اکژ اوقات سینے میں ہلکا
سا درد محسوس ہوتا ہے جوکچھ ہی دیر کے اندر دیکھتے ہی دیکھتے شدید تکلیف میں بدل جاتا ہے اور مریض کی جان پر
بن آتی ہے ۔یہ دردسانس میں آکسیجن کمی کی وجہ سے ہوتا ہے،جب دل کو خون فراہم کرنے
والی رگیں دشواری کا سبب بنتی ہیں تو یہ درد محسوس ہوتا ہے جس کو
انجا ئنا کا درد بھی کہا جاتا ہے ۔انجائنا
کا درد جان لیوا تو نہیں ہوتا البتہ یہ
آنے والے خطرات کی طرف ضرور متوجہ کراتا ہے کہ آیا آگے چل کر یہ تکلیف دل کا دورہ
بھی بن سکتی ہے دل کو خون فراہم کرنے میں کافی بڑی رکاوٹ بھی بن سکتی ہے لٰہذہ اس
کو صرف معمولی درد سمجھ کر نظرانداز ہرگز نہ کیا جائے۔ جو مرد حضرات ۴۰ سے زیادہ عمر کے ہو جائیں اور اسی طرح جو
خواتین ۳۰ سے زیادہ عمر کی ہو جاتی ہیں اُن پر مرض بہت جلد اثرانداز ہوتاہے۔ سینے
کے درد میں دبا وَ،بےچینی ،سن ہونے کی کیفیت ،بھاری پن،جلن محسوس ہونااور شدید قسم
کا درد محسوس ہوتا ہے۔یہ درددل کے قریب سے شروع ہو کر دونوں کندھوں تک،گردن سے لے
کر معدے تک محسوس کیا جا تا ہے۔یہ درد ۱۰ سیکنڈ سے لے کر آدھے منٹ تک مرِیض کو
تکلیف میں مبتلا رکھ سکتا ہے۔ جس کو قطعً نظرانداز نہیں کرنا چاہئےورنہ یہ درد دل
کی سرجری تک کر دیتا ہے۔یہ چند مزید علامات درجہ ذیل ہیں دل کو خون فراہم کرنے
والی رگوں میں دشواری کی وجہ موٹاپا،سانس کی الرجی ،چکنائی والی چیزیں، سینے میں
مسلسل جلن کا رہنا،سگرٹ نوشی،ورزش نہ کرنا ،کولیسٹرول کا حد سے بھڑ جانا اور بہت
سے وجوہات بنتی ہیں۔
v
علامات
vموٹاپا
vسانس کی الرجی
vچکنائی والی چیزیں
v سینے میں مسلسل جلن کا رہنا
vسگرٹ نوشی
vورزش نہ کرنا
vکولیسٹرول کا حد سے بھڑ جانا
vشوگر کا ہونا
vگیس کا بن جانا
vکھانا کھاتے ہی سوجانا
v
احتیاطی
تدابیر ؛
·
جن افراد میں یہ مرض پایا
جاتا ہے مطلب سینے کا درد ہونے کی جتنی وجواہات اُپر بتائی گئی ہیں اگر وہ کسی بھی
فرد میں پائی جاتی ہے مثلاً شوگر کا مرض
ہے تو اُسکو چاہیے کہ صبح وشام پیدل چلا کرے تقریباً ا کلو میٹر جس سے نہ صرف
اُسکا شوگر لیول کنٹرول ہوگا بلکہ اُسکو دل کا عارضہ بھی لاحق نہیں ہوگااور صحت
بھی اچھی رہے گی۔
·
سینے کے مریض کو چکنائی
والی چیزیں کم بلکہ ختم ہی کر دینی چاہیے تا کہ چکنائی کی وجہ سے دل کو خون فراہم
کرنے والی رگیں اُن چیزوں کی چکنائی کی وجہ سے تنگ نہ ہوں ۔
·
کولیسٹرول اگر مقررہ حد
سے بڑھ جائے تو دل کو جسم سے اور دل سے جسم کو خون فراہم کرنے والی رگیں) نالیاں ( کولیسٹرول کی وجہ سے خون فراہم کرنے میں دشواری کا
باعث بنتی ہیں اور اگر کولیسٹرول بے حد بڑھ جائے تو یہ نالیاں بند بھی ہو جاتی ہیں
جس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑسکتا ہے۔ کولیسٹرول کو کم کرنے رکھنے کے لیے ان چیزوں
کا استعمال کم کرنا چاہیے۔
·
چھوٹا اور بڑے کا گوشت
مناسب مقدار میں استعمال کریں۔
·
انڈے کی زردی ۔
·
ڈیری اشیاء جیسے دودھ
،دہی ،مکھن پنیر وغیرہ۔
·
گردہ ،کلیجی،مغز،سری پائےمیں
بہت زیادہ کولیسٹرول پایا جاتا ہے تو ان کی اشیاء کو روزمرہ کی بنیاد پر کم سے کم
استعمال کریں ۔
·
سبزیاں ،پھل ،دالیں اور
میوہ جات میں کولیسٹرول بہت کم مقدار میں
پایا جاتاہے تو ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا کرجائے۔


Post a Comment