v
حیض نہ آنا
vپلساٹیلااور
سی پیا ؛
v جب نوجوان لڑکیوں کو پہلا حیض وقت پرنہ آ
َئےاورخاص طور پر حیض کی جگہ
لکوریا آرہا ہو، مریضہ پیلی نظر آئے اور خون کا درد بریسٹ کی طرف زیادہ محسوس ہو ، یا مریضہ کےجسم میں خون کی بے حد کمی پائی جاتی ہوتو ایسی صورت میں مریضہ کوپلسا ٹیلا دینی چاہیے ۔
v اگر پلسا ٹیلا سے آرام نہ آرہا ہو تو سی پیا بے حد مفید
ثابت ہوتی ہے پلساٹیلا کی جگہ سی
پیا،زیادہ بہت جلد اثر انداز ہوتی ہے ،مگر سی پیا تب تک نہیں دینی چاہیے جب تک پلسا ٹیلا سےکو
ئی فرق نہ پڑتا ہو ۔
v
ان کے علاوہ جب
خون کی مقدار زیادہ ہواوراس مرض میں
مبتلا مریضہ کو درد کے ساتھ ساتھ سرمیں خون
کا دورہ زیادہ محسوس ہو اور باربار نکسیر
آتی ہو تو آپ مریضہ کو پلسا ٹیلا کی بجائے
برائی اونیا دیں اورسی پیا کی جگہ کلکیریاکارب دینی چاہیے جس سے بہت ہی کم وقت میں مریضہ کو راحت ملے گی ۔
v
اس مرض میں
مبتلا کچھ لڑکیا ں ایسی ہوتی ہیں جن کو صرف کالی کارب دینے سے ہی آرام مل
جاتا ہے اور کچھ کو بیلاڈونا ہی تکلیف سےراحت پہنچا دیتی ہے تو وہیں پر کچھ کو
لائیکوپوڈیم بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
v
قلت حیض
vسلفر،فائیٹولاکااورکلکیریا کارب ؛
v
حیضکے دوران خون کا
کم مقدار میں آنا اور بہت کم وقت کےلیے
آنا ،اس کے ساتھ مریضہ کا رنگ پیلا ہو جاتا ہو۔اور اس حالت کے دوران پیٹ میں انیٹھن اور مروڑ بھی ہو نیز ساتھ میں لکوریا بھی ہو تو
فائی ٹولاکا ،کلکیریاکا ربدینی
چاہیے ،
v
اگر ان سےآرامنہ ملے تو سلفر بہت مفید ثابت
ہوتی ہے ۔ سلفر کے علاوہ آپ کاکولس
بھی لے سکتے ہیں وہ بھی بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے۔
v ان دواوؔں کے علاوہ سی پیا ، کالی کارب،فاسفورس ،الیومنا ،اموینمکارب ،کا سٹی کم ،نیڑم میوربھی قلت ِ حیض
میں بہت راحت دہ ثابت ہو تی ہیں ۔
v اگر وقت سے پہلے
ماہواری آجائے اور قلت ِحیض بھی ساتھ میں ہو تو مریضہ کو سئائی لی شیا دینی
چاہیے اس کے علاوہقلتِ حیض
کے دوران انتڑیوںمیں شدید مروڑ
محسوس ہو رہی ہو تو کالو فائی لم سے کوئی
اور دوا اچھی نہیں ہو سکتی ہے۔
دیسی علاج
v
کثرت حیض
vاپیکاک،اُ گنیشا اورنکسؔ وامکا ؛
v حیض کا بہت جلدی جلدی آنا مطلب وقت سے پہلے ہی آجانا اور
خون بھی ساتھ میں بہت زیادہ مقدار میں آتا ہو تو نکسؔ وامکا بہترین دوا ہے جس سے مریضہ کو بہت جلد راحت ملے گی اور یہ
تکالیف بھی بہت جلد ختم ہو جائیں گی ۔
v نکسؔ وامکا کے علاوہ مریضہ کو پلاٹینا ،کاربوویجی ٹیبلس اور کیموملا بھی دی جا سکتی ہیں جو بے حد
کارآمد ثابت ہوئی ہیں ۔اگر مریضہ کو حیض
کو دوران کمر کے نچلے حصے میں نارمل یا شدید درد محسوس ہوتا ہو اور ساتھ میں خون گاڑھا اور گانٹھ دار ہو تو ایسی صورتِ حال میں مریضہ کو اپیکاک دی جائے
جس سے مریضہ کو فل فور آرام ملے گا ۔اپیکاک کی جگہ آپ مریضہ کو اگنیشا بھی دے
سکتے ہیں جو اپیکاک جتنا ہی آرام پہنچائے گی ۔
v کثرتِ حیض میں ان دواوؔ ں کے علاوہ کاربوویجی ٹیبلس، نیڑم میو ر، کلکیریاکارب، ورٹیرم البم ،فیرم مٹ، اور بعض اوقات بیلا ڈونا بھی دی جا سکتی ہیں۔
دیسی علاج
v
حیض کا دب جانا
vلائیکوپوڈیم ؛
v اگر حیض کسی وجہ سے دب کی گیا ہو جیسے خوف کی وجہ سے
حیض کا دب جانا اور یہ حیض کچھ عرصے دبا رہے تو ایسی صورت میں لائیکو پوڈیم بہترین دو ا ہے
جس سے نہ صرف حیض ٹھیک ہوگا بلکہ ٹائم پر آیا کرے گا ۔
v اگر مرض کا جلد پتہ لگ جائے اور علاج بروقت شروع کرنے
کی صورت میں عام طورپر ایکونائٹ سے حیضفوراً بحال ہو جاتا ہے ۔ایکو نائٹ کی جگہ پلسا ٹیلا یا پلاٹینا بھی دی جا
سکتی ہے۔
v اگر حیض غصہ اور جلنے کا کڑھن کی وجہ سے دب جائے تو ایسی صورتِ حال میں ایکو نائٹ یا پلاٹینا بے حد
مفید ثابت ہوتی ہیں ۔
v اگر حیض کا دب جانا سردی کی وجہ بنے تو پھر مریضہ کو پلسا
ٹیلا یا سی پیا،سلفر، ڈلکمارا اورنکس مو سکاٹا دوائیں استعمال کریںجس سے مریضہ کا بہت جلد یہ مسئلہ حل ہو جائے
گا۔
v ان داواوَں کے علاوہ
کونیم، کالی کارب ،گریفائیٹس ، کلکیریاکارب اور بیلا ڈونا بھی بہت کارآمد
ثابت ہوتی ہیں۔جن کو استعمال کر کے بہت سی تکالیف کو دور کیا جاسکتا ہے۔
v
حیض کا درد کے ساتھ آنا
v
کیوپرم مٹیلیکم
حیض کا اس طرح کی صورت میں آنا کہ مریضہ کے ہاتھ پاوَں میں اینٹھن نظر آئے
اور درد کی وجہ سے چلانا شروع کردیتی ہو
بے سکونی محسوس کرتے ہوئے ادھر اُدھر پھرتی ہو
اورساتھ ہی ساتھ میں ڈکاریں اور قے سی کیفیت ہو تو ایسی صورتِحال میں مریضہ کو کیوپرم مٹیلیکم دوا دینی چاہیے جو ان سب تکا لیف
کو بہت جلد ٹھیک کرتی ہے۔


Post a Comment