طب نبوی اور بھوک کا نہ لگنا

تفصیل اس ویڈیو میں دیکھیں

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  بھوک کی کمی کا مسئلہ ہر طرف سے سلجھایا ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے غذا کے دو اہم اوقات متعین فرمائے۔

ناشتہ صبح  جلدی کیا جائے اور

رات کا کھانا بھی جلد اور ضرور  کھایا جائے اور اس کے بعد چہل قدمی کی جائے

----------------------

نفسیاتی اسباب کو توجہ میں رکھتے ہوئے اطمینان سے کھانے کی تلقین فرمائی۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اگر دستر خوان لگ گیا ہو اور وہی وقت نماز کا ہو  تو نماز چھوڑ کر کھانا اطمینان  اور تسلی سے کھایا جائے۔

----------------------

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایت فرماتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کبھی یہ شکایت کی جاتی کہ فلا ں کمزور پڑ رہا ہے اور اسے بھوک نہیں لگ رہی تو فرماتے کہ تمہارے لئے تلبینہ جو موجود ہے۔ اس کو کھاو ۔

پھر فرماتے ہیں  کہ قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے کہ تم لوگ اپنے چہرے کو پانی سے دھوکر اس سے غلاظت اتار دیتے ہو۔

----------------------

جو کا دلیہ ایک طاقتور اور مفید غذا ہے۔  یہ پیٹ سے تیزابیت دور کرتا ہے، خون میں کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے اور پرانی قبض کا بہترین علاج ہے۔۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھوک لگانے والا قرار دیا ہے۔

----------------------

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی روایت فرماتی ہیں۔

کھانے سے پہلے تربوز کا استعمال پیٹ کو دھو کر صاف کر دیتا ہے اور وہا ں کی بیماریوں کو بھی دور کر دیتا ہے- 

----------------------

کھانے کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے تربوز کھانے سے بھوک خوب لگتی ہے اور آنتوں میں سوزش وغیرہ کے مسائل بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے یہی فائدہ دوسرے پھلوں : خربوزہ، سردا، پپیتہ اور انناس سے بھی 

حاصل کیا جا سکتا ہے۔

----------------------

انجیر کھانے کو ہضم کرتی ہے۔ کھانے کے بعد اگر تین دانے خشک انجیر کھا لئے جائیں تو آئندہ کی بھوک کا معقول بندوبست ہو جائے گا۔

پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگترے کی تعریف فرمائی ہے۔ عبدالرحمان بن دلہم رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے اترج میں بے شمار فوائد موجود ہیں۔ یہ دل کو مضبوط کرتا ہے اور دل کے دورے میں مفید ہے۔

میٹھے سنگترے کا جوس اتنا مفید نہیں  جتنا کہ اس کو گودے سمیت کھانا  مفید ہے۔ 

----------------------

جنت میں ملنے والی چیزوں کا قرآن مجید نے تذکرہ کیا ہے ان میں ادرک بڑی خوبیوں والا بتایا ہے۔ وہاں پر جن گلاسوں میں پانی دیا جائے گا ، ان گلاسوں کی ساخت میں ادرک کی مہک بسی ہوئی ہوگی۔ ادرک آنتوں کے مسائل کے لئے اکسیر ہے۔ یہ جگر کی اصلاح کرتا ہے، تبخیر کو دور کرتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے اور قبض کو دور کرتا ہے مگر مسہل نہیں ہے۔ بہی پھل یا اس کا مربہ بھی مفید ہے۔


,

Post a Comment

Previous Post Next Post

Advertisement

Advertisement

Advertisement