حبّ الرشاد ---- الثفا
یہ ایک قدیم دوا ہے۔ احادیث میں اسے الثفا کا نام دیا گیا
ہے۔یہ آدھ میٹر سے کم بلندی والی جھاڑیاں ہیں۔ اس کے پتوں کو سلاد کے طور پر کھایا جاتا ہے۔ اس
کے پتوں کا جوشاندہ بڑے شوق سے پیا جاتا ہے۔ عرب میں ان سوکھے ہوئے پتوں کو
"الشیح" کہا جاتا ہے۔ افغانستان کی الشیح زیادہ خوشبودار ہوتی ہے۔ آج کل
پاکستان کے بازاروں میں افغانی قہوہ کے نام سے بہت مقبول ہے۔ یورپ میں اسے Garden Cress کہتے ہیں۔
ان
جھاڑیوں کو پھلیاں لگتی ہیں۔ جن میں گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔ ان بیجوں کو حب الرشاد
کہتے ہیں۔ احادیث میں حب الرشاد کی تعریف کی گئی ہے۔
ارشادات نبوی صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابان بن صالح
بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اپنے گھروں میں حب الرشاد ، مر، اور صعتر سے دھونی دیتے رہا
کرو۔
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے ایک اورروایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا:
اپنے گھروں میں لوبان اور حب الرشاد کی دھونی دیتے رہا کرو۔
حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تمہارے پاس الثفا موجود ہے۔ اس میں اللہ تعالی نے ہر بیماری
سے شفا رکھی ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم نہیں جانتے کہ کن دو کاموں میں شفا ہے۔ الثفا اور
صبر میں ۔۔ صبر سے مراد مصبر ہے۔ اس کی
تائید میں ابوداؤد نے حضرت ام سلمہ سے یہ روایت بیان کی۔ ابو سلمہ کی وفات کے بعد
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے صبر میرے سامنے رکھا
اور پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی کہ یہ صبر ہے اور اس میں خوشبو نہیں۔ انہوں
نے فرمایا کہ یہ چہرے کو نکھارتا ہے لیکن اسے رات کے علاوہ نہ لگانا ۔ انہوں نے
اسے دن میں لگانے سے منع فرمایا ہے۔
محدثین کے
مشاہدات
·
اس کی دھونی کیڑے مکوڑوں کو ہلاک کر دیتی ہے
·
اسے شہد میں ملا کر اگر پیٹ پر لیپ کیا جائے تو تلی کے ورم
کو دور کرتی ہے۔
·
اسکا جوشاندہ سر میں ڈالنے سے گرتے بال رک جاتے ہیں۔
·
اسے پانی میں گھول کر پھنسی دانوں پر لگایا جائے تو وہ بیٹھ
جاتی ہیں۔
·
اگر اسے جلا کر برص پر لگایا بلکہ ساتھ پلایا بھی جائے تو اسے دور کرتا ہے۔
·
ابن القیم کہتے ہیں یہ طبیعت کی ٹھنڈک کو دور کرتی ہے اور
پیٹ سے چھوٹے موٹے تمام کیڑے نکال دیتی ہے۔
·
قوت باہ میں اضافہ کے ساتھ تلی کے ورم کو کم کرتی ہے۔
·
اسے مہندی کے پتوں کے ساتھ پکا کر پیا جائے تو سینہ کے اندر
جمی ہوئی بلغم نکال دیتی ہے- یہ بھوک بڑھاتی ہے۔ دمہ کے دورے کو کم کرتی ہے، سانس کی نالیاں کھولتی ہے اور پٹھوں کی اکڑن دور
ہو جاتی ہے۔
·
اس کا جوشاندہ پیٹ
صاف کرتا ہے اور ریاح سے چھٹکارہ ملتا ہے۔
·
اس کے گرم پانی سے اگر کلیاں کی جائیں تو مسوڑھوں کی سوجن
ختم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ پانی سر میں ڈالا جائے تو سر سے پھپھوندی اور سکری نکل
جاتے ہیں۔
اطباء قدیم کے مشاہدات
·
اس کا لیپ چہرے کے داغ دھبے اتار دیتا ہے۔
·
ان بیجو ں کو انڈے کی زردی کے ساتھ کھانے سے جسم فربہ
ہوجاتا ہے۔
·
یہ بیج مقوی باہ ہیں۔
·
دودھ میں ابال کر پلانے سے عورتوں کے دودھ میں اضافہ کرتا
ہے۔ جسمانی دردیں ٹھیک کرتا ہے۔ سیلان الرحم میں فائدہ دیتا ہے۔
·
یاد رکھیں حاملہ عورت کو اس کا جوشاندہ دینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
·
سعودی عرب میں الشیح کا قہوہ پلایا جاتا ہے۔ پیٹ کے درد کو
یہ منٹوں میں دور کر دیتا ہے، خواہ یہ درد کسی بھی وجہ سے ہو۔
جوشاندہ بنانے کا طریقہ
اس
کے دو تولہ بیج ، پونے چار ماشہ ملٹھی دونوں کو ہلکا کوٹ کر ساڑھے بارہ چھٹانک پانی
میں ڈال کر برتن ڈھک کر دس منٹ پکایا جائے
اس کو اتار کر چھان لیں۔ حب الرشاد کا جوشاندہ تیار ہے۔


Post a Comment